Department of Family and Community Services

Urdu

share on Facebook share on Twitter share on Yammershare by email

111 132 پر کال کریں

ہر لڑکی کو بچپن کی خوشیوں اور

ایک روشن مستقبل کے امکان کا حق حاصل ہے۔

نابالغ کی زبردستی شادی۔

آسٹریلیا اپنے نوجوان افراد کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے زبردست مواقع فراہم کرتا ہے۔ ہر ایک کو یہ چننے کا حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کرے۔ ایک نابالغ لڑکی کو شادی پر مجبور کیا جاۓ تو اس کے روشن مستقبل کا امکان بربادہو جاتا ہے۔ اس طرح اس کیلئے تعلیم کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور نوعمری اور بچپن کے اہم ترین سال تباہ ہو جاتے ہیں۔ یہ قانون کے خلاف بھی ہے۔ انہیں ایک روشن مستقبل چننے دیں

زبردستی کی شادی سے کیا مراد ہے؟

زبردستی کی شادی یہ ہے کہ ایک فرد (یا دونوں افراد) کی شادی اس کی آزادانہ اور مکمل رضامندی کے بغیر ہو۔

ہو سکتا ہے انہیں دھوکہ دے کر، دھمکی دے کر یا ان پر دباؤ ڈال کر شادی کروائی جاۓ۔

کسی کو شادی کرنے پر مجبور کیسے کیا جا سکتا ہے؟

لوگوں کو جسمانی یا نفسیاتی ذرائع سے شادی کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اس میں جسمانی یا جنسی تشدد، دھمکیاں، قید، سکول سے ہٹا لینا یا کسی کو یہ کہنا شامل ہو سکتا ہے کہ اگر اس نے شادی نہ کی تو خاندان کی ناک کٹ جاۓ گی۔

نابالغ کی زبردستی شادی سے کیا مراد ہے؟

نابالغ کی زبردستی شادی، جسے بچپن میں زبردستی شادی بھی کہا جاتا ہے، یہ ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے کسی فرد کو شادی کرنے پر مجبور کیا جاۓ۔

آسٹریلیا کے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر کے بچے اپنی شادی کیلئے اجازت نہیں دے سکتے۔ 16 اور 17 سال عمر کے بچے صرف تب شادی کر سکتے ہیں کہ انہیں عدالت اور اپنے والدین کی اجازت حاصل ہو۔

آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر کا کوئی شخص کسی بھی طرح کے حالات میں قانونی طور پر شادی نہیں کر سکتا۔

نابالغوں کی زبردستی شادی کون کرتا ہے؟

نابالغوں کی زبردستی شادی کسی خاص تہذیب، مذہب یا نسل تک محدود نہیں ہے۔

آسٹریلیا میں نابالغ کی زبردستی شادی کرنا جرم ہے۔

نابالغ کی زبردستی شادی کرنا آسٹریلیا کے قانون کے خلاف ہے۔ اسی طرح زبردستی کی شادی بھی قانون کے خلاف ہے۔

111 132 پر کال کریں

نابالغ کی زبردستی شادی کے انتظام میں کردار ادا کرنے والے شخص کو سات سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔ اس میں گھر والے، دوست، شادی کا انتظام کرنے والے، شادی کی رسم یا نکاح انجام دینے والے اور مذہبی رہنما شامل ہیں۔ یہ قانون تب بھی لاگو ہوتا ہے جب شادی یا رسم ایک تہذیبی یا مذہبی رواج ہو اور قانونی طور پر پابند کرنے والی شادی نہ ہو۔

یہ تب بھی جرم ہے جب سمندر پار سے کسی شخص کو زبردستی شادی کے مقصد سے آسٹریلیا لایا جاۓ یا کسی کو آسٹریلیا سے باہر لے جا کر شادی پر مجبور کیا جاۓ۔ سمندر پار نابالغ کی زبردستی شادی کا انتظام کرنے میں ملوث لوگوں کو 25 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے

ارینج میرج (بڑوں کی طے کی ہوئی شادی) کے بارے میں کیا؟

زبردستی کی شادی اور ارینج میرج دو مختلف چیزیں ہیں۔

ارینج میرج یہ ہوتی ہے کہ 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ایک شخص کو کوئی اور (بالعموم گھر والے) کسی رشتے کے بارے میں بتائیں۔ پھر لڑکا اور لڑکی دونوں چن سکتے ہوں کہ آیا وہ یہاں شادی کریں گے یا نہیں۔ ارینج میرج کیلئے ضروری ہے کہ دونوں اپنی مرضی سے رشتہ قبول کریں۔

آسٹریلیا میں ارینج میرج قانونی ہے۔

اگر آپ کو شک ہو کہ ایک بچے کی زبردستی شادی کی جا رہی ہے تو مدد حاصل کریں۔

اکثر یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ ایک بچے یا نابالغ نوجوان کی زبردستی شادی کی جا رہی ہے۔ اگر آپ کو شک ہو کہ کسی نابالغ کی زبردستی شادی کی جا رہی ہے تو آپ کو جلد از جلد مدد طلب کرنی۔

یہ اہم ہے کہ آپ زبردستی کی شادی کے خطرے سے دوچار شخص کی سلامتی کے بارے میں بھی سوچیں اور اپنی سلامتی کے بارے میں بھی۔ اگر فوری خطرہ یا تشدد کی دھمکی پیش ہو تو 000 کو فون کریں۔

یا نیو ساؤتھ ویلز میں111  132پر24گھنٹے کھلی رہنے والی چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن کو فون کریں۔

یہ ہیلپ لائن دن کے چوبیس گھنٹے ان بچوں اور نوجوانوں کو مشورہ اور مدد فراہم کر سکتی ہے جنہیں بڑا نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔ اس میں نابالغ کی زبردستی شادی کا خطرہ بھی شامل ہے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے آپ اپنے بھروسے کے کسی شخص جیسے کسی ڈاکٹر، استاد یا رشتہ دار سے بھی نابالغ کی زبردستی شادی کے امکان بارے میں بات کر سکتے ہوں۔

اگر آپ انگلش کے علاوہ کوئی اور زبان بولتے ہیں تو450  131 پر ٹرانسلیٹنگ اینڈ انٹرپریٹنگ سروس(TIS) کو فون کریں اور انہیں 111 132 پر چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن سے بات کروانے کو کہیں۔

مزید معلومات

End Exploitation، استحصال ختم کریں، (آسٹریلین حکومت کا اقدام)

www.ag.gov.au/forcedmarriage

Anti-Slavery Australia، غلامی کے خلاف آسٹریلیا،

www.antislavery.org.au ۔ 9574 9662 02

معلومات اور مدد کیلئے111 132 پر کال کریں.